دینی مسائل اورعلم سیکھ رہے ہیں اورنہ جاننے والوں کو سکھا رہے ہیں، یہ افضل ہیں۔ میں معلِّم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔‘‘پھر آپ ان میں تشریف فرما ہوئے ۔
(سنن الدارمی،المقدمۃ،باب فی فضل العلم والعالم،۱/۱۱۱، حدیث:۳۴۹)
جنَّت کے باغات
حضرت ِ ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار باذنِ پروردگار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جب تم لوگ جنت کے باغات میں سے گزرو تو میوہ چن لیا کرو۔‘‘ اس پر کسی نے عرض کی: جنت کے باغات کیا ہیں؟ تو آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:’’علم کی مجلسیں ۔‘‘ (المعجم الکبیر،۱۱/۷۸، حدیث:۱۱۱۵۸)
گزشتہ گناہوں کا کفّارہ
سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے: ’’جو شخص علم طلب کرتا ہے تو وہ اس کے گزشتہ گناہوں کا کفّارہ ہو جا تا ہے۔‘‘ (تِرمِذی،کتاب العلم،باب فضل طلب العلم،۴/۲۹۵، حدیث:۲۶۵۷)
علم کی روشنی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان روایات سے عِلْمِ دِین کے حُصول