/ ۸۲، حدیث:۲۴۶۱۵)اور ایک روایت میں ہے کہ کان لگاکر قرآن سننے والے سے دنیا کی تکلیف دور کر دی جاتی ہے اور پڑھنے والے سے آخِرَت کی مُصِیْبَت۔ قرآن کی ایک آیت سننے والے کےلئے یہ سننا سونے کے پہاڑ سے بہتر ہے اور قرآن کی ایک آیت تِلاوت کرنے والے کے لئے یہ پڑھنا آسمان کے نیچے موجود تمام اشیاء سے بہتر ہے۔ (کنز العمال، کتاب الاذکار، ۱ / ۲۶۵، حدیث:۲۳۵۹)
﴿2﴾ نعت شریف پڑھی جاتی ہے
خدا کا ذکر کرے، ذکرِ مصطفےٰ نہ کرے
ہمارے منہ میں ہو ایسی زباں خدا نہ کرے
تِلاوَتِ قرآنِ مجید کے بعد نعت شریف پڑھی جاتی ہے۔ نعت شریف پڑھنے و سننے کے بھی کیا کہنے!چُنانْچہ،
ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی نعت شریف پڑھنے کے لیےجناب حَسَّان بِن ثَابِت رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے لیے مَسْجِد شریف میں مِنْبَر رکھواتے تھے۔
(مشکاۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب البیان و الشعر، الفصل الثالث، ۲/ ۱۸۸، حدیث: ۴۸۰۵)