ہمنشین بھی محروم نہیں رہتا
حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم حضرتِ سیدنا عبد ﷲ بن رواحہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے پاس سے گزرے تووہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے درمیان ’’بیان‘‘کررہے تھے ۔آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:’’تم ہی وہ لوگ ہو جن کے ساتھ میرے رب عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے صبر کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘ پھر یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ ترجمۂ کنز الایمان :اور اپنی جان ان
یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَ سے مانوس رکھو جو صبح وشام اپنے رب کو
الْعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجْہَہٗ وَ لَا پکارتے ہیں اس کی رضاچاہتے ہیں اور
تَعْدُ عَیۡنَاکَ عَنْہُمْ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ تمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اَور پرنہ
الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ پڑیں کیا تم دنیا کی زندگانی کاسنگار چاہو
اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنۡ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ گے اوراس کا کہا نہ مانو جس کا دِل ہم
ہَوٰىہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا ﴿۲۸﴾ نے اپنی یا د سے غا فل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا
(پ۱۵، الکہف:۲۸) اور اس کا کام حد سے گزرگیا۔