Brailvi Books

جَنَّت کا راستہ
22 - 51
بھرے اجتِماعات تِلاوتِ قرآن،نعتِ رَحْمَتِ عَالَمِیَّان صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، سنّتوں بھرے بیان،رِقَّت اَنگیز دُعاؤں،ذِکر ودُرُود،صلوٰۃ وسَلام کے مَدَنی  پھولوں اور عِلْمِ دِین کے گُلْدَسْتوں سے سجے ہوئے ہوتے ہیں اور یقیناً اس طرح کے اجتِماعات میں شِرکَت کثیر اَجْر وثَواب اور بَرکات کے حُصول کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ، 
پاکیزہ باتیں چننے والے
رحمتِ عالم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مُعظَّم ہے: قِیامت کے دِن کچھ ایسے لوگ ہو ں گے جونہ انبیا ہوں گے نہ شُہَدا،(مگر) ان کے چہروں کا نُور دیکھنے والوں کی نِگاہوں کو خیرہ (یعنی چکا چَوند)کرتا ہوگا۔انبیا وشُہَدا ان کے مقام اورقُربِ الٰہی کو دیکھ کر اظہارِ مَسَرَّت فرمائیں گے۔ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں سے کسی صَحابی نے عرض کی :یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! یہ کون(خوش نصیب) ہوں گے؟ ارشاد فرمایا:یہ مختلف قبائل اور بستیوں کے لوگ ہوں گے جو(دنیا میں)  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی یاد کرنے کے لئے اکٹھے ہوتے تھے اور پاکیزہ باتیں اس طرح چُنتے تھے جس طرح کھجور کھانے والا بہترین کھجوریں چُنتا ہے۔ (الترغیب والترہیب، کتاب الذکر والدعاء، الترغیب فی حضور مجالس الذکر۔۔ الخ، ۲/۲۵۲، حدیث:۲۳۳۴)