| جہنم کے خطرات |
مطلب یہ ہے کہ کامل درجے کا مسلمان اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اس کی شرارتوں سے بے خوف نہ ہو جائیں ۔ حدیث:۲ حضرت عائشہ و حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام ہمیشہ پڑوسی کے متعلق مجھے وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ عنقریب یہ پڑوسی کو وارث ٹھہرا دیں گے۔
(صحیح البخاری، کتاب الادب،باب الوصاۃ بالجار، الحدیث:۶۰۱۴و۶۰۱۵، ج۴، ص۱۰۴)
حدیث:۳
حضرت ابن عمرو رضی ا للہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا تمام ساتھیوں میں اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے بہتر وہ ساتھی ہے جو اپنے ساتھیوں کیلئے بہترین ہو، اور تمام پڑوسیوں میں ا للہ عزوجل کے نزدیک وہ پڑوسی بہتر ہے جو اپنے پڑوسیوں کیلئے بہترین ہو۔( سنن الترمذی،کتاب البروالصلۃ،باب ماجاء فی حق الجوار،الحدیث۱۹۵۱، ج۳،ص۳۷۹)
حدیث:۴
حضرت ابن عباس رضی ا للہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول ا للہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ مومن نہیں جو خودپیٹ بھر کر کھا لے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا رہ جائے۔(شعب الایمان للبیھقی،باب فی المطاعم والمشارب،فصل فی ذم کثرۃ الاکل، الحدیث۵۶۶۰،ج۵،ص۳۱)