| جہنم کے خطرات |
حدیث:۵
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم فُلانی عورت کی نماز و روزہ اور صدقہ کا بڑا چرچا ہوتا رہتا ہے مگر وہ اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان سے ا یذا دیتی رہتی ہے۔ تو ارشاد فرمایا کہ یہ عورت جہنمی ہے تو اس آدمی نے کہا کہ فُلانی عورت کے روزہ و نماز اور صدقہ میں کمی کا چرچا ہے۔ وہ صرف پنیر کی ٹکیوں کو صدقہ میں دیا کرتی ہے مگر وہ اپنے پڑوسیوں کو نہیں ستاتی ہے۔ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ عورت جنتی ہے۔(المسندلامام احمد بن حنبل،مسند ابی ھریرۃ،الحدیث۹۶۸۱،ج۳،ص۴۴۱)
(۳۴) جانوروں کو ستا نا
جانوروں کو بلا وجہ مارنا ،اور ان کی طاقت سے زیادہ ان سے محنت لینا، بلا ضرورت ان کو قتل کرنا، یا آگ میں جلانا، یا بھوکا پیاسا رکھنا حرام و گناہ ہے۔ چنانچہ مندرجہ ذیل حدیثوں میں خاص طور پر اس کی ممانعت آئی ہے۔
حدیث:۱
حضرت ابوہریرہ رضی ا للہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک چیونٹی نے ایک نبی علیہ السلام کو کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کے مسکن کو جلا دینے کا حکم دے دیا، اور وہ جلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس نبی علیہ السلام پر یہ وحی اتاری کہ تم کو تو ایک چیونٹی نے کاٹا تھا۔ مگر تم نے ایک ایسی امت کو جلا دیا جو خدا کی تسبیح پڑھتی تھی ۔(صحیح البخاری، کتاب الجھاد والسیر،باب۱۵۳ ،الحدیث:۳۰۱۹، ج۲، ص۳۱۵)