| جہنم کے خطرات |
اللہ تعالیٰ نے رشتہ داروں کے علاوہ پڑوسیوں،ساتھیوں، اور دوستوں کے ساتھ بھی نیک اور اچھے برتاؤ کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا یہ جنت میں لے جانے والا عمل ہے اور ان لوگوں کے ساتھ بدسلوکی و ایذا رسانی کرنا حرام و گناہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ چنانچہ قرآن مجید میں خداوند قدوس نے ارشاد فرمایا کہ
بِالْوَالِدَیۡنِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیۡنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنۡۢبِ وَابْنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَمَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُکُمْ ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخْتَالًا فَخُوۡرَۨا ﴿ۙ۳۶﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے بے شک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والا بڑائی مارنے والا۔(پ5،النساء:36)
اسی طرح احادیث میں ہے کہ
حدیث:۱
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ خدا عزوجل کی قسم! وہ مومن نہیں ہو گا خدا عزوجل کی قسم! وہ مومن نہیں ہوگا خدا عزوجل کی قسم! وہ مومن نہیں ہوگا تو کسی نے کہا کہ کون؟ یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم تو فرمایا کہ وہ شخص جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے بے خوف نہ ہو۔(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب اثم من لایأمن جارہ...الخ، الحدیث: ۶۰۱۶،ج۴،ص۱۰۴)