| جہنم کے خطرات |
قطع تعلق کو حرام فرمایا ہے۔ اور حکم دیا ہے کہ ان رشتہ داریوں کو نہ کاٹو۔ یعنی ایسا مت کروکہ بھائیوں اوربہنوں،چچاؤں،پھوپھیوں،بھتیجوں،بھانجوں اورنواسوں وغیرہ سے اس طرح کا بگاڑ کر لو کہ یہ کہہ دو کہ تم میری بہن نہیں اور میں تمہارا بھائی نہیں اور یہ کہہ کر بالکل رشتہ داری کا تعلق ختم کر لو۔ ایسا کرنے کو ''قطع رحم'' اور ''رشتہ کاٹنا'' کہتے ہیں۔ یہ شریعت میں حرام اور بڑاسخت گناہ کا کام ہے اور اس کی سزا جہنم کا درد ناک عذاب ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
فَہَلْ عَسَیۡتُمْ اِنۡ تَوَلَّیۡتُمْ اَنۡ تُفْسِدُوۡا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوۡۤا اَرْحَامَکُمْ ﴿۲۲﴾اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللہُ فَاَصَمَّہُمْ وَ اَعْمٰۤی اَبْصَارَہُمْ ﴿۲۳﴾
ترجمہ کنزالایمان: تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کر دیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔(پ26،محمد:22۔23)
اسی طرح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:
حدیث:۱
حضرت عبداللہ بن ابی او فیٰ نے کہا کہ میں نے رسول ا للہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اُس قوم پر رحمت نہیں نازل ہوتی جس قوم میں کوئی رشتہ داریوں کوکاٹنے والا موجود ہے۔(مشکوٰۃ المصابیح،کتاب الآداب، باب البر والصلۃ،الفصل الثانی، الحدیث: ۴۹۳۱، ج۳،ص۶۱۔شعب الایمان للبیھقی،باب فی صلۃ الارحام،الحدیث ۷۹۶۲،ج۶،ص۲۲۳)