روزہ فرض اور اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے ۔بلا عذر ِشرعی اِس کا چھوڑ دینا گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے اور روزہ رکھ کر اگر بلا عذرِ شرعی قصداً توڑ دے توکفارہ لازم ہے اور اس کا کفا رہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے یاساٹھ دن لگاتار روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کوکھاناکھلائے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِکُمْ
ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والوتم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے۔(پ2،البقرۃ:183)
دوسری آیت میں ارشاد فرمایا:
فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلْیَصُمْہُ ؕ
ترجمہ کنزالایمان: تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے۔(پ2،البقرۃ:185)