| جہنم کے خطرات |
نے فرمایا کہ جس کو خدا عزوجل نے مال عطا فرمایا اور اس نے اس کی زکوٰ ۃ نہیں ادا کی تو قیامت کے دن اس کے مال کو ایک گنجے اژدہے کی صورت میں بنا دیا جائے گا کہ اس اژدہے کی دو چتیاں ہوں گی (جو اس کے بہت ہی زہریلے ہونے کی نشانی ہے) اور وہ اژدہا اس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا جو اپنے جبڑوں سے اس کو پکڑے گا اور کہے گا میں ہوں تیرا مال، تیرا خزانہ۔
( صحیح البخاری،کتاب الزکوۃ، باب اثم مانع الزکوٰۃ،الحدیث:۱۴۰۳،ج۱، ص۴۷۴)
حدیث:۲ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جن اونٹوں کی زکوٰۃ نہیں دی گئی ہے وہ دنیا میں جتنے بڑے اور فربہ تھے اس سے بڑھ کر بڑے اور فربہ ہو کر قیامت کے دن آئیں گے اوراپنے مالکوں کو اپنے پاؤں سے کچلیں گے اور جن بکریوں کی زکوٰۃ نہیں دی گئی ہے وہ بکریاں دنیا میں جتنی بڑی اور فربہ تھیں ان سے زیادہ بڑی اور فربہ ہو کر آئیں گی اور اپنے مالکوں کو پیروں سے رو ندیں گی اور سینگوں سے ماریں گی۔
(صحیح البخاری،کتاب الزکوۃ، باب اثم مانع الزکوٰۃ،الحدیث:۱۴۰۲،ج۱، ص۴۷۳)
حدیث:۳
حضرت احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوذرغفاری رضی ا للہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ خزانہ جمع کرنے والوں کو (جو زکوٰۃ نہیں دیتے) خوشخبری سنا دو کہ ان کے خزانہ کو قیامت کے دن پتھر بنا کر جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا۔ پھر ان کو ان کے مالکوں کی چھاتیوں کی گھنڈی پر رکھا جائے گا تو وہ ان کے شانوں کی کرّی سے