| جہنم کے خطرات |
حدیث:۲
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ا للہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو سُترہ نہ بنا کر نماز پڑھے اور کوئی اس کے آگے سے گزرنے کا اِرادہ کرے تو اس کو چاہیے کہ اس کو دفع کرے۔ پھر بھی اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑائی کرے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔(صحیح البخاری،کتاب الصلوۃ،باب یرد المصلی من مربین یدیہ، الحدیث: ۵۰۹، ج۱، ص۱۸۹)
مسائل و فوائد
نمازی کو چاہیے کہ اگر میدان میں نماز پڑھے تو اپنے آگے کسی چیز کو سُترہ بنا کر نماز پڑھے اور گزرنے والے کو چاہیے کہ سُترہ کے باہر سے گزرے۔ اور اگر میدان یا مسجد میں بلاسُترہ کے نماز پڑھ رہا ہو۔ اور کوئی آگے سے گزرنے لگے تو اشارہ سے اس کو منع کرے۔ اور منع کرنے سے بھی وہ نہ مانے تو سختی کے ساتھ اس کو دھکا دے کر دفع کرے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کو شیطان اس لئے فرمایا کہ وہ اگرچہ مسلمان ہے مگر شیطان کا کام کر رہا ہے کہ نمازی کے آگے سے گزر کر نمازی کی توجہ میں پراگندگی اور انتشار پیدا کر رہا ہے۔( واللہ تعالیٰ اعلم)
(۲۶) نماز میں آسمان کی طرف دیکھنا
نماز میں آسمان کی طرف سر اُٹھا کر دیکھنا ناجائز اور گناہ ہے۔ حدیث میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے۔