حدیث:۳
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی ا للہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ ہم لوگوں نے اپنے کو اس حال میں دیکھا ہے کہ جماعت سے بچھڑنے والا یا تو منافق ہوتا تھا یا مریض، اوربے شک مریض کا یہ حال ہوتا تھا کہ دو آدمیوں کے درمیان چل کر نماز میں آتاتھا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہم لوگوں کو ہدایت کی سنتوں کی تعلیم دی ہے اور ہدایت کی سنتوں میں سے یہ بھی ہے کہ نماز اُس مسجد میں پڑھی جائے جس میں اذان دی گئی ہو اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جو اس بات سے خوش ہو کہ وہ کل قیامت کے دن مسلمان ہونے کی حالت میں ا للہ تعالیٰ سے ملاقات کرے تو اس کو لازم ہے کہ وہ نمازوں کو وہاں پڑھے جہاں اذان دی گئی ہوکیو نکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کیلئے ہدایت کی سنتیں شریعت میں رکھی ہیں اور نماز با جماعت ہدایت کی سنتوں میں سے ہے۔ اگر تم لوگ اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو گے جس طرح سے جماعت سے بچھڑنے والا اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہے۔ تو تم لوگ اپنے نبی کی سنت کو چھوڑنے والے ہو جاؤ گے ۔ اوراگر تم لوگوں نے اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دیا۔ تو یقینا تم لوگ گمراہی میں پڑ جاؤ گے۔ جو آدمی اچھی طرح وضو کرکے مسجد کا قصد کرتا ہے