| جہنم کے خطرات |
حدیث:۱
جماعت چھوڑنے والوں کے بارے میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اُس ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ بیشک میں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ لکڑیاں جمع کرنے کاحکم دوں پھر میں نماز قائم کرنے کا حکم دوں اور نماز کیلئے اذان کہی جائے پھرمیں ایک شخص کوا مامت کرنے کا حکم دوں اور وہ امامت کرے۔ پھر میں جماعت سے الگ رہنے والوں کے پاس جا کر ان کے گھروں کو ان کے اوپر جلا دوں۔(صحیح البخاری،کتاب الاذان، باب وجوب صلوۃ الجماعۃ، الحدیث۶۴۴، ج۱، ص۲۳۲)
حدیث:۲
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہم لوگوں کو فجر کی نماز پڑھائی تو سلام پھیرنے کے بعد آپ نے فرمایا کہ کیا فلاں حاضر ہے؟ تو لوگوں نے کہا کہ ''نہیں'' پھر فرمایا کیا فلاں حاضر ہے؟ تو لوگوں نے کہا کہ ''نہیں ''تو ارشاد فرمایا کہ یہ دو نمازیں (فجر و عشائ) منافقین پر بہت بھاری ہیں۔ اگر تم لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ ان دونوں نمازوں کا کیا اور کتنا ثواب ہے۔تو تم لوگ اپنے گھٹنوں پر گھسٹتے ہوئے ان دونوں نمازوں میں آتے۔ پہلی صف فرشتوں کی صف کے مثل ہے اگر تم لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ اس کی کیا فضیلت ہے۔ تو تم لوگ جھپٹ کر جلدسے جلد اس میں آتے اور یقین رکھو کہ ایک آدمی کی نماز ایک آدمی کے ساتھ اس کے اکیلے نماز پڑھنے سے بہت اچھی ہے اور دو آدمیوں کے