Brailvi Books

جہنم کے خطرات
79 - 205
بات ہے کہ ان جلیل القدر حضرات کے نزدیک قصداً نماز چھوڑدینے والا کافر ہے۔
                 (بہارشریعت،ج۱،حصہ۳،ص۱۰)
(۳)نماز فرضِ عین ہے۔ اِس کی فرضیت کامُنکر کافر ہے اور جو قصداً نماز چھوڑ دے اگرچہ ایک ہی وقت کی وہ فاسق ہے۔ اور جو بالکل نماز نہ پڑھتا ہو قاضی ئ اسلام اس کو قید کر دے گا۔ یہاں تک کہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے بلکہ حضرت امام مالک و شافعی و احمد رضی ا للہ تعالیٰ عنہم کے نزدیک سلطانِ اسلام کو یہ حکم ہے کہ وہ بالکل نماز نہ پڑھنے والے کو قتل کرا دے۔ (بہارشریعت،ج۱،حصہ۳،ص۱۰)
(۲۳) جمعہ چھوڑنا
    یوں تو ہر فرض نماز کو چھوڑنا گناہ کبیرہ ہے اور جہنم میں جانے کا سبب ہے لیکن جمعہ کے چھوڑ دینے پرخصوصیت کے ساتھ چند خاص وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللہِ وَ ذَرُوا الْبَیۡعَ ؕ
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدوفروخت چھوڑ دو ۔(پ28،الجمعۃ:9)

    حدیثوں میں بھی اس کی بہت تاکید اور اس کے چھوڑنے پر وعید ِشدید آئی ہے چنانچہ مندرجہ ذیل حدیثیں اس پرگوا ہ ہیں۔

حدیث:۱

     حضرت ابن عمرو ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ ہم دونوں نے
Flag Counter