Brailvi Books

جہنم کے خطرات
78 - 205
ڈالے جاؤ،اگرچہ تم جلا دیئے جاؤ اور جان بوجھ کر فرض نماز کو نہ چھوڑنا کیوں کہ جو نماز کو قصداً چھوڑ دے گا اس کیلئے ا مان ختم ہو جائے گی اور تم شراب نہ پینا اس لئے کہ وہ برائی کی کنجی ہے۔
(سنن ابن ماجہ،کتاب الفتن،باب الصبر علی البلاء،الحدیث۴۰۳۴،ج۴،ص۳۷۶)
مسائل و فوائد
(۱) مذکورہ بالا حدیثوں میں سے حدیث نمبر۲ کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح قارون و فرعون و ہامان و ابی بن خلف وغیرہ کفار جہنم میں جائیں گے،اسی طرح نماز چھوڑ دینے والا مسلمان بھی جہنم میں جائے گا یہ اور بات ہے کہ کفار تو ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور ان لوگوں کو بہت سخت عذاب دیا جائے گا اور بے نمازی مسلمان ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا بلکہ اپنے گناہوں کے برابر عذاب پا کر پھر جہنم سے نکال کر جنت میں بھیج دیا جائے گا اور بے نمازی کو بہ نسبت کفار کے کچھ ہلکا عذاب دیا جائے گا۔

(۲) بہت سی ایسی حدیثیں آئی ہیں جن کا ظاہر مطلب یہ ہے کہ قصداً نماز چھوڑ دینا کفر ہے اور بعض صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم مثلاً امیر المومنین حضرت فاروق اعظم و عبدالرحمن بن عوف و عبدا للہ بن مسعود، و عبدا للہ بن عباس، و جابر بن عبدا للہ و معاذ بن جبل، و ابوہریرہ و ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا یہی مذہب تھا۔ اور بعض فقہ کے اماموں مثلاً امام احمد بن حنبل، و اسحاق بن راہویہ و عبداللہ بن مبارک و امام نخعی رحمۃ ا ﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کا بھی یہی مذہب تھا اگرچہ ہمارے امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دو سرے ائمہ نیز بہت سے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نماز ترک کرنے والے کو کافر نہیں کہتے۔ پھر بھی یہ کیا تھوڑی
Flag Counter