| جہنم کے خطرات |
صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ سودا بیچنے میں بکثرت قسم کھانے سے بچتے رہو، کیوں کہ قسم کھانے سے سودا تو بِک جاتا ہے لیکن اُس کی برکت برباد ہو جاتی ہے۔
(صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ ، باب النھی عن الحلف فی البیع، الحدیث: ۱۶۰۷، ص۸۶۸)
حدیث:۸
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ (شدلِلّٰہِ غضب سے) اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے نہ کلام فرمائے گا نہ ان کی طرف نظر فرمائے گا۔نہ ان کو گناہوں سے پاک کریگا اور ان کو بہت ہی سخت اور درد ناک عذاب دے گا۔
(۱) ٹخنوں سے نیچے تہبند یا پاجامہ لٹکانے والا ۔
(۲) احسان جتانے والا ۔
(۳)جھوٹی قسم کھا کر سودا بیچنے والا۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم ...الخ، الحدیث:۱۰۶،ص۶۸)
مسائل و فوائد
حرام ذریعوں سے کمائے ہوئے مالوں کو کھانا، پینا ،پہننا، یا کسی اور کام میں استعمال کرنا حرام و گناہ ہے اور اس کی سزا دنیا میں مال کی قلت و ذلت اور بے برکتی ہے اور آخرت میں اس کی سزا جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب ِعظیم ہے۔
(والعیاذ باللہ تعالیٰ منہ)