حدیث:۲
حضرت ابن عباس رضی ا للہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے۔ تو فرمایا کہ یہ دونوں قبر والے یقینا عذاب میں مبتلا ہیں اور کسی ایسے گناہ میں ان دونوں کو عذاب نہیں دیا جا رہا ہے جس سے بچنا بہت زیادہ دشوار رہا ہو۔ ان میں سے ایک کو تو اِس لئے عذاب دیا جا رہا ہے کہ وہ چُھپ کر پیشاب نہیں کرتا تھا اور دو سرا چغلی کھاتا تھا۔ پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کھجور کی ایک ہری شاخ لی اور اس کو چیر کر دو ٹکڑے کئے ۔ پھر دونوں قبروں میں ایک ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول ا للہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اس لئے کہ جب تک یہ دونوں ٹہنیاں خشک نہ ہوں گی اِن دونوں کے عذاب میں تخفیف ہو جائے گی۔
(صحیح البخاری،کتاب الوضوء، باب من الکبائر أن لایستترمن بولہ ، الحدیث:۲۱۶، ج۱،ص۹۵۔۹۶)
چغلی کسے کہتے ہیں : حدیث میں لفظ ''نمیمہ '' آیا ہے۔ جس کا ترجمہ اُردو میں