غیبت ان گناہوں میں سے ہے جو کثیر الو قوع ہیں اور باوجودیکہ انتہائی سخت گناہ کبیرہ ہے، یہاں تک کہ زنا سے بھی بدتر گناہ ہے مگر اس زمانے میں بہت کم لوگ ہیں جو اس گناہ سے محفوظ ہیں۔ عوام تو عوام بڑے بڑے علمائے کرام اورمقدس پیروں کا دامن بھی اس گناہ کی نحوست سے آلودہ نظر آتا ہے ۔علماء و مشائخ کی شاید ہی کوئی مجلس ہو گی جو اس گناہ کی ظلمت سے خالی ہو۔ پھر غضب یہ ہے کہ لوگ اس طرح غیبت کے عادی بن چکے ہیں اور یہ بَلا اس قدر عام ہو چکی ہے کہ گویا غیبت لوگوں کے نزدیک کوئی گناہ کی بات ہی نہیں۔ مگر خوب سمجھ لو کہ غیبت، خواہ علماء کی مجلس ہو یا عوام کا مجمع ہر جگہ اور ہر حال میں حرام و گناہ ہے اور گناہ بھی کبیرہ یعنی بڑا گناہ ہے لہٰذا جب کبھی غفلت میں کوئی غیبت زبان سے نکل جائے تو فوراً توبہ کر لینی چاہیے اور جس کی غیبت کی ہے (اگر اس کو معلوم ہوگیا ہو ) تو اس سے مُعاف کرا لے اور قرآن و حدیث کی مقدس تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے کہ اِسی میں مومن کی دینی و دُنیوی فلاح ہے اور یہی نجات کا راستہ ہے (واللہ تعالیٰ اعلم)