| جہنم کے خطرات |
حدیث:۲
حضرت ابن عباس رضی ا للہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ظہر وعصر کی نماز پڑھی اوریہ دونوں روزہ دار تھے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اپنی نماز پوری فرما چکے تو ان دونوں سے فرمایا کہ تم دونوں پھرسے وضو کرکے اپنی نمازوں کو لو ٹاؤ اور روزہ پورا کرو۔ لیکن کسی دوسرے دن اس کی قضا کر لو۔ تو ان دونوں آدمیوں نے پوچھا کہ کیوں ہم نمازوں کو لوٹائیں؟ اور روزہ کی قضا کریں؟ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اس لئے کہ تم دونوں نے فُلاں آدمی کی غیبت کی ہے۔(شعب الایمان للبیھی،باب فی تحریم اعراض الناس،الحدیث۶۷۲۹،ج۵،ص۳۰۳)
غیبت کیا ہے:کسی کا کوئی غائبانہ عیب بیان کرنا یا پیٹھ پیچھے اُس کو برا کہنا یہی غیبت ہے۔ چنانچہ مشکوٰۃ شریف میں ایک حدیث ہے کہ خود حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ غیبت کیا چیز ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ ا للہ اور اس کا رسول عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں۔ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا اپنے (دینی) بھائی کی ان باتوں کو بیان کرنا جن کو وہ ناپسند سمجھتا ہے (یہی غیبت ہے)۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ بتائیے اگر میرے (دینی) بھائی میں واقعی وہ باتیں موجود ہوں تو کیا ان باتوں کا کہنا بھی غیبت ہو گی۔ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کے اندر وہ باتیں ہوں گی جبھی تو تم اس کی غیبت کرنے والے کہلاؤ گے اور اگر اس میں وہ باتیں نہ ہوں جب تو تم اس پر بہتان لگانے والے کہلاؤ گے۔