Brailvi Books

جہنم کے خطرات
61 - 205
حدیث:۶

    حضرت ابن عمر رضی ا للہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے اُنہوں نے کہا کہ رسول ا للہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اُس سے ایک میل دور چلا جاتا ہے اُس کے جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے ۔
(سنن الترمذی،کتاب البروالصلۃ،باب ماجاء فی الصدق والکذب...الخ، الحدیث۱۹۷۹،ج۳،ص۳۹۲)
حدیث:۷

    حضرت سفیان بن اسد حضرمی رضی ا ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو کہتے سنا ہے کہ یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کہے اور تیرا بھائی تجھے سچا سمجھتا رہے حالانکہ تو جھوٹا ہے۔
(سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی المعاریض،الحدیث۴۹۷۱،ج۴،ص۳۸۱)
مسائل و فوائد 

    یوں تو ہر جھوٹی بات حرام و گناہ ہے۔ مگر جھوٹی گواہی خاص طور سے بہت ہی سخت گناہ کبیرہ اور جہنم میں گرا دینے والا جرمِ عظیم ہے۔ کیوں کہ قرآن و حدیث میں خصوصیت کے ساتھ جھوٹی گواہی پر بڑی سخت وعیدیں آئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسری قسموں کے جھوٹ سے تو صرف جھوٹ بولنے والے ہی کی دنیا و آخرت خراب ہوتی ہے۔ مگر جھوٹی گوا ہی سے تو گوا ہی دینے والے کی دنیا و آخرت خرا ب ہونے کے علاوہ کسی دوسرے مسلمان کا حق مارا جاتا ہے یا بلا قصور کوئی مسلمان سزا پا جاتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں باتیں شرعاً کتنے بڑے گناہ کے کام ہیں۔لہٰذا بہت ہی ضروری ہے
Flag Counter