Brailvi Books

جہنم کے خطرات
59 - 205
حدیث:۲

    حضرت ابوبکر صدیقرضی ا للہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں گناہ کبیرہ میں سے زیادہ بڑے بڑے گناہوں کی خبر نہ دے دوں؟ تو لوگوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں۔ ہم لوگوں کو ضرور بتا دیجئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بڑے بڑے گناہوں میں سب سے زیادہ بڑے گناہ یہ ہیں۔ (۱) خدا کے ساتھ شرک کرنا اور (۲) ماں باپ کی نافرمانی اورایذا رسانی کرنا۔ یہ فرماتے وقت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم مسند لگا کر لیٹے ہوئے تھے ایک دم بیٹھ گئے اور فرمایا (۳) '' الا وقول الز ور '' یعنی خبر دار اور جھوٹی بات۔ پھر اِسی لفظ کو اتنی دیر تک بار با ر دہراتے رہے کہ ہم لوگوں نے اپنے دل میں کہا کہ کاش !حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اس بات کے فرمانے سے خاموش ہو جاتے اور اس سے آگے کوئی دوسری بات فرماتے۔
(صحیح البخاری،کتاب الشہادات،باب ماقیل فی شہادۃ الزور، الحدیث۲۶۵۴، ج۲،ص۱۹۴)
حدیث:۳

    حضرت صفوان بن سلیم رضی ا للہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ا للہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے کسی نے کہا کہ کیا مومن بزدل ہوتا ہے؟ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ''ہاں'' پھر کسی نے عرض کیا کہ کیا مومن بخیل ہو تا ہے ؟ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ '' ہاں'' پھر کسی نے کہا کہ کیا مومن جھوٹا ہوتا ہے؟ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ
(مشکوٰۃ المصابیح،کتاب البیوع، باب الکسب ...الخ،الفصل الثالث، الحدیث: ۲۷۸۹، ج۲، ص۱۳۴)
Flag Counter