| جہنم کے خطرات |
اگر کسی نے کسی مسلمان مرد یا عورت کو زنا کی تہمت لگائی اور وہ اس پر چار گواہ نہیں پیش کر سکا تو اس کو اس تہمت لگانے کی سزا میں قاضی ئاسلام اَسی درے لگوائے گا۔ اور اس کو مردودا لشہادۃ قرار دے گا۔یہ دُنیوی سزا ہے اور آخرت میں اس کو جہنم کے عذاب عظیم کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ (واﷲ تعالیٰ اعلم)
(۱۴) ما ں با پ کی ا یذ ا رسا نی
ماں باپ کی نافرمانی حرام، سخت حرام، اور گناہ کبیرہ ہے۔ بلکہ ہر ایک پر فرض ہے کہ اپنے ماں باپ کا فرماں بردار ہو کر اُنکے ساتھ بہترین سلوک کرے ،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا کہوَ بِالْوَالِدَیۡنِ اِحْسَانًا ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنۡدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوْکِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلۡ لَّہُمَا قَوْلًاکَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾وَ اخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا ﴿ؕ۲۴﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور ماں باپ کےساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا اور ان کیلئے عاجزی کا بازو بچھانرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا۔(پ15،بنی اسرائیل:23،24)
حدیث:۱
حدیث شریف میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے گناہ کبیرہ کا بیان