Brailvi Books

جہنم کے خطرات
54 - 205
 (۱۳) زنا کی تہمت لگا نا
    کسی پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگانا بہت ہی سخت حرام اور شدید گناہ کبیرہ ہے۔جس پر عذاب جہنم کی وعید آئی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَرْمُوۡنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوۡا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ ۪ وَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۲۳﴾
ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جو عیب لگاتے ہیں انجان پارسا ایمان والیوں کو ان پر لعنت ہے دنیاا و رآخرت میں اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ (پ18،النور:23)

    اور حدیث شریف میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
'' وقذ ف المحصنات المؤمنات الغافلات''
    یعنی پاک دامن انجان مسلمان عورتوں کو زنا کی تہمت لگانا گناہ کبیرہ یعنی بہت بڑا گناہ ہے۔
 (صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب قول اللہ ان الذین یاکلون...الخ، الحدیث۲۷۶۶، ج۲،ص۲۴۲)
     اور دوسری حدیث میں حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یوں فرمایا کہ
'' ولا تقذ فوا محصنۃ ''
یعنی کسی پاک دامن مسلمان عورت کو زنا کی تہمت مت لگاؤ۔
 (سنن الترمذی،کتاب الاستئذان ولآداب،باب ماجاء فی قبلۃ الیدوالرجل، الحدیث۲۷۴۲، ج۴،ص۳۳۵)
Flag Counter