| جہنم کے خطرات |
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوۡہُمُ الۡاَدْبَارَ ﴿ۚ۱۵﴾وَمَنۡ یُّوَلِّہِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللہِ وَمَاۡوٰىہُ جَہَنَّمُ ؕ وَبِئْسَ الْمَصِیۡرُ ﴿۱۶﴾
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والوجب کافروں کے لام( لشکر) سے تمہارا مقابلہ ہو تو انہیں پیٹھ نہ دو اور جواس دن انہیں پیٹھ دے گا مگر لڑائی کا ہنر کرنے یا اپنی جماعت میں جا ملنے کو تو وہ اللہ کے غضب میں پلٹا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا بری جگہ ہے پلٹنے کی۔(پ9،الانفال:15،16)
اور حدیث شریف میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کبیرہ گناہوں کی فہرست سناتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ'والتولی یوم الزحف '
'یعنی جہاد کے دن پیٹھ پھیر دینا یہ بھی گناہ کبیرہ ہے
(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب الکبائرواکبرھا،الحدیث۸۹،ص۶۰)
اور دوسری جگہ یوں فرمایا کہ
'' وتولوا للفرار یوم الزحف''
یعنی کفار سے جہاد کے دن بھاگنے کیلئے پیٹھ نہ پھیرو۔
(سنن الترمذی،کتاب الاستئذان والآداب،باب ماجاء فی قبلۃ الیدوالرجل، الحدیث۲۷۴۲، ج۴،ص۳۳۵)
مسائل و فوائد
اگر کفار تعداد میں مسلمانوں سے دوگنا ہوں جب بھی مسلمانوں کوبھاگنا جائز نہیں۔ ہاں اگر کفار کی تعداد مسلمانوں کے دو گنا سے بھی زائد ہو تو اُس وقت اگر مسلمان بھاگیں گے تو گنہگار نہ ہوں گے۔