| جہنم کے خطرات |
شراب کی برائی کے بارے میں چند حدیثیں بھی پڑھ لیجئے۔چنانچہ
حدیث:۱
حضرت وائل حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ طارق بن سوید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شراب کے بارے میں دریافت کیا تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ان کو منع فرما دیا تو اُنہوں نے کہا کہ میں تو صرف دوا ہی کیلئے شراب بناتا ہوں تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ یہ دوا نہیں ہے بلکہ یہ ایک بہت بڑی بیماری ہے۔(صحیح مسلم،کتاب الاشربۃ،باب تحریم التداوی بالخمر،الحدیث۱۹۸۴،ص۱۰۹۷)
حدیث:۲
حضرت عبداللہ بن عمر رضی ا للہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ رسول ا للہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جو شراب پی لے گا چالیس دن تک اُس کی نماز قبول نہیں ہو گی لیکن اگر اس نے توبہ کر لی تو ا للہ تعالیٰ اُس کی توبہ قبول فرمالے گا۔ پھر اگر دوبارہ اس نے شراب پی لی تو پھر چالیس دن تک اُس کی نمازقبول نہیں ہو گی۔ لیکن اگر اس نے توبہ کر لی تو ا للہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ پھر اگر اس نے تیسری بار شراب پی لی تو پھر چالیس دنوں تک اس کی نمازقبول نہیں ہو گی لیکن اگراس نے تو بہ کر لی تو اﷲتعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔پھر اگر چوتھی مرتبہ اس نے شراب پی لی تو پھر چالیس دنوں تک اس کی نمازقبول نہیں ہو گی لیکن اس کے بعد اگر اس نے توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی اور قیامت کے دن اس کو جہنم میں دوزخیوں کی پیپ کی نہر میں سے پلایا جائے گا۔(سنن الترمذی،کتاب الاشربۃ،باب ما جاء فی شارب الخمر،الحدیث۱۸۶۹، ج۳، ص۳۴۱)