Brailvi Books

جہنم کے خطرات
39 - 205
میں اس کی بڑی سخت سزا مقرر فرمائی ہے کہ قرآن مجید میں فرمایا :
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا جَزَآءًۢ بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللہِ ؕ وَاللہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۳۸﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور جو مرد یا عورت چور ہو تو ان کا ہاتھ کاٹو ان کے کیے کا بدلہ اللہ کی طرف سے سزا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔(پ6،المائدۃ:38)

اور حدیث شریف میں ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے آیاتِ بینات کا بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا '' ولا تسرقوا ''یعنی چوری مت کرو ۔
 (سنن الترمذی،کتاب الاستئذان والآداب،باب ماجاء فی قبلۃ الیدوالرجل، الحدیث ۲۷۴۲،ج۴،ص۳۳۵)
دوسری حدیث میں ہے کہ '' لا یسرق السارق حین یسرق وھو مومن '' یعنی چور جس وقت چوری کرتا ہے ا ُس وقت مومن نہیں رہتا۔
 (صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان نقصان الایمان...الخ، الحدیث۵۷، ص۴۸)
    مطلب یہ ہے کہ چوری کرتے وقت اِس گناہ کی نحوست سے اس کا نورِ ایمان اس سے الگ ہو جاتا ہے اور پھر جب وہ اس گناہ سے توبہ کر لیتا ہے تو اس کا نورِ ایمان پھر اسکو مل جاتا ہے۔
مسائل وفوائد
    چور نے اگر دس درہم یا اِس سے زیادہ مالیت کی چوری کی ہے تو اُس کا داہنا ہاتھ گٹے سے کاٹ لیا جائے گا اور اُس کے کٹے ہوئے ہاتھ کو اُس کی گردن میں لٹکا کر شہر میں گشت کرا یا جائے گاتا کہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو پھر اگر دوبارہ چوری کی تو اس کا
Flag Counter