(مشکوۃ المصابیح،کتاب الحدود،الفصل الثالث، الحدیث: ۳۵۸۲،ج۲ص۳۱۴۔المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث عمرو بن العاص،الحدیث۱۷۸۳۹،ج۶،ص۲۴۵)
الغرض دنیا و آخرت میں اس فعلِ بد کا انجام ہلاکت و بربادی ہے۔ لہٰذا مسلمانوں پرلازم ہے کہ اپنے معاشرہ کو اس ہلاکت خیز بدکاری کی نحوست سے بچائیں خداو ند کریم عزوجل اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے طفیل میں ہر مسلمان مردو عورت کواِس بلاء عظیم سے محفوظ رکھے۔ (آمین)
یہ گندا اور گھناؤنا کام زناکاری سے بھی بڑھ کر شدید گناہ کبیرہ ہے اور جہنم میں لے جانے والا بدترین کام ہے۔ ا للہ تعالیٰ نے قومِ لوط کو جنھوں نے سب سے پہلے یہ فعل بد کیا تھا قرآن مجید میں بار بار اُن لوگوں کو بدترین مجرم قرار دیا ۔اور قرآن مجید میں کہیں ان لوگوں کو ''مجرمین'' کہیں ''مسرفین'' کہیں ''فاسقین '' فرما کر ان لوگوں کے جرموں کا اعلان اور اس فعل ِبد کی مذمت کا بیان فرمایا ۔ اور قرآن مجید کی بہت سی