کیوں کہ کوئی مسلمان بھی انبیاء ،اولیاء اور دوسرے بزرگوں یعنی پیروں اور اماموں اور شہیدوں کو واجب الوجود یا لائق عبادت نہیں مانتا ہے،بلکہ تمام مسلمان اِن بزرگوں کو اللہ عزوجل کا بندہ مان کر اِن کی تعظیم کرتے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبوں کی تعظیم سے خوش ہو جائے لہٰذا سنیوں کے یہ اعمال ہر گز ہر گز شرک نہیں ہو سکتے۔ ہاں البتہ جو جاہل لوگ قبروں کو سجدہ کرتے ہیں اگر وہ لوگ اِن بزرگوں کو قابلِ عبادت سمجھ کر سجدہ کریں تو یہ کھلا ہوا شرک ہو گا۔ اور اگر اِن بزرگوں کی تعظیم کیلئے سجدہ کریں تویہ اگرچہ شرک نہیں ہو گا مگر ناجائز و حرام اور بہت سخت گناہ ہوگا۔ لہٰذا مسلمان کو قبروں کے سجدہ سے خود بھی بچنا چاہیے اور دوسروں کو بھی روکنا چاہیے ۔
خاص کر خانقاہوں کے سجادہ نشین اور مزاروں کے مجاورین حضرات کا فرض ہے کہ وہ قبروں پر سجدہ کرنے والے جاہل زائرین کو قبروں کو سجدہ کرنے سے روکیں اور خلاف شرع حرکت کرنے والے زائرین کو خانقاہوں اور مزاروں سے باہر کر دیں۔ ورنہ وہ بھی ان زائرین کے گناہوں میں شریک ٹھہریں گے اور قہر قہار و غضب جبار میں گرفتار ہو کر عذاب نار کے حقدار ٹھہریں گے مگر افسوس کہ سجادہ نشین و مجاورین حضرات چند پیسوں اور چند بتاشوں کے لالچ میں گنوار قسم کے زائرین اور اجڈ عورتوں کو خانقاہوں اور مزاروں میں جانوروں کی طرح گھس پڑنے کی اجازت دے دیتے ہیں اور یہ گنوار قبروں پر سر پٹک پٹک کر علانیہ سجدہ کرتے ہیں اور سجادہ نشین و مجاورین اپنی آنکھوں سے ان حرکتوں کو دیکھتے ہیں مگر دم نہیں مار سکتے اور اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہابی ، سنیوں کو طعنہ دیتے ہیں بلکہ بہت سے مسلمان ان قبیح حرکتوں کو دیکھ کر ُسنّیت سے متنفر ہو کر وہابی ہو جاتے ہیں۔ (نعوذ باللہ منہ)