Brailvi Books

جہنم کے خطرات
24 - 205
للمجوس او بمعنی استحقاق العبادۃ کما لعبدۃ الاصنام
(شرح العقائد النسفیۃ،مبحث الافعال کلھابخلق اللہ ...الخ،ص۷۸)
    شرک کے معنی یہ ہیں کہ خدا عزوجل کی الوہیت میں کسی کو شریک ٹھہرانا یا تو اس طرح کہ خدا عزوجلکے سوا کسی کو واجب الوجود مان لینا جیسا کہ مجوسی کہتے ہیں یا اس طرح کہ خداکے سوا کسی کو عبادت کا حقدار مان لینا جیسا کہ بت پرستوں کا عقیدہ ہے۔

    حضرت علامہ تفتا زانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس عبارت میں فیصلہ کر دیا کہ شرک کی دوہی صورتیں ہیں ایک یہ کہ خداعزوجل کے سوا کسی کو واجب الوجود مانا جائے۔ دوسری یہ کہ خدا عزوجل کے سوا کسی کو عبادت کے لائق مان لیا جائے۔
کون کون سی چیزیں شرک نہیں ہیں
(۱) انبیاء علیہم السلام ،اولیاء رحمہم اللہ تعالیٰ کو محبت سے پکارنا یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ، یا غوث رضی ا ﷲعنہ کہنا۔

(۲) بزرگوں سے مدد طلب کرنا ۔

(۳) بزرگوں کے مزاروں پر چادر پھول ڈالنا۔

(۴) فاتحہ پڑھنا ۔

(۵) بزرگوں کو خدا عزوجل کی بارگاہ میں وسیلہ بنا نا۔ 

(۶) بزرگوں کے مزاروں کے سامنے مراقبہ کرنا ۔

(۷) بزرگوں کے مزاروں کا ادب کرنا۔

(۸) بزرگوں کے فاتحہ کے کھانوں اور مٹھائیوں کو تبرک سمجھ کر کھانا،جو نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں سُنّی مسلمانوں کا دستور و طریقہ ہے یہ ہرگز ہر گز شرک نہیں
Flag Counter