| جہنم کے خطرات |
شرک کے بارے میں ا للہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ وہ اِس گناہ کو کبھی بھی نہ بخشے گا۔ باقی شرک کے سوا دوسرے تمام گناہوں کو جس کیلئے وہ چاہے گا بخش دے گا اور مشرک ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ضرور جہنم میں جائے گا۔ مشرک کی کوئی عبادت مقبول نہیں۔ بلکہ عمر بھر کی عبادت شرک کرنے سے غارت و برباد ہو جاتی ہے چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ
لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ
ترجمہ کنز الایمان:کہ اے سننے والے اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اکارت جائے گا (پ24،الزمر:65) حدیث: حضرت عبدا للہ بن مسعود رضی ا للہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے رسول ا للہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کون سا گناہ ا للہ عزوجل کے نزدیک سب سے زیادہ بڑا ہے؟ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ہے کہ تم اللہ عزّوجل کیلئے کوئی شریک ٹھہراؤ حالانکہ ا ُسی نے تم کو پیدا کیا ہے۔
(صحیح البخاری،کتاب التوحید،باب قول اللہ یایھاالرسول...الخ،الحدیث۷۵۳۲،ج۴،ص۵۸۸)
اِن کے علاوہ دو سری بہت سی آیات اور حدیثیں بھی شرک کی ممانعت میں وارد ہوئی ہیں۔ لہٰذا جہنم کے عذا ب سے بچنے کیلئے شرک سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔ شرک کیا ہے: شرک کسے کہتے ہیں اور شرک کی حقیقت کیا ہے؟ تو اس کے بارے میں علامہ حضرت سعد الدین تفتازانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب '' شرح عقائد'' میں تحریر فرمایا کہ
الا شتراک ھواثبات الشریک فی الالوھیۃ بمعنی وجوب الوجود کما