دوزخیوں کو حلق میں پھنسنے والا کھانا کھلایا جائے گا جو اُن کے حلق میں پھنس جائے گا اور اُن کا دم گھٹنے لگے گاتو وہ پانی مانگیں گے اُس وقت اُن کے سامنے اِتنا گرم پانی پیش کیا جائے گا جس کی گرمی کا یہ عالم ہو گا کہ برتن منہ کے سامنے لاتے ہی چہرہ کی پوری کھال جل بھن کر اور پگھل کر برتن میں گر جائے گی اور جب یہ پانی پیٹ میں جائے گا تو پیٹ کے اندر کے تمام اعضاء آنتوں وغیرہ کو جلا کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُن کے پیروں پر گرا دے گا۔
(سنن الترمذی،کتاب صفۃ جہنم ،باب ماجاء فی صفۃ طعام اہل النار، الحدیث۲۵۹۵،ج۴،ص۲۶۳)
قرآن مجید میں ہے کہ زقوم ( تھوہڑ) کادرخت جہنمیوں کو کھلایا جائے گا۔ (پ۲۵،الدخان:۴۳،۴۴)اور حدیث میں ہے کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ زمین پر گر پڑے تو دنیا والوں کے کھانے پینے کی تمام چیزوں کو تلخ اور بدبودار بنا کر خراب کر دے ۔
(سنن الترمذی،کتاب صفۃجہنم،باب ماجاء فی صفۃشراب اہل النار، الحدیث۲۵۹۴،ج۴،ص۲۶۳)