| جہنم کے خطرات |
کچھ جہنمیوں کو اِس طرح کا عذاب دیا جائے گا کہ ایک فرشتہ اُن کو لٹا کر اُن کے سروں پر ایک پتھر اِس زور سے مارے گا کہ اُن کا سر کچل جائے گا اور وہ پتھر لڑھک کر کچھ دور چلا جائے گا پھر وہ فرشتہ جب تک اُس پتھر کو اُٹھا کر لائے گا اُس کے سر کا زخم اچھا ہو چکا ہو گا پھر وہ پتھر مارے گا تو سر کچل جائے گا اور پتھر پھر لڑھک کر دور چلا جائے گا پھر فرشتہ پتھر اُٹھا کر لائے گا اور پھروہ پتھر مار کراُس کا سر کچل دے گا اِسی طرح لگا تار یہی عذاب ہوتا رہے گا۔(المرجع السابق)
مُنہ نوچنے کا عذ ا ب
یہ بھی حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم شب معراج میں ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرے جو (جہنم میں) تانبے کے ناخنوں سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے پوچھا کہ اے جبریل ! یہ کون لوگ ہیں؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جوآدمیوں کا گوشت کھاتے تھے( یعنی لوگوں کی غیبت کرتے تھے )اور لوگوں کی آبروریزی کرتے تھے۔
(سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی الغیبۃ، الحدیث۴۸۷۸، ج۴،ص۳۵۳)
سانپ بچھو کا عذ ا ب
حدیث میں ہے کہ عجمی اُونٹوں کے مثل بڑے بڑے سانپ ہوں گے جو جہنمیوں کو ڈستے ہوں گے وہ ایسے زہریلے ہوں گے کہ اگر ایک مرتبہ کاٹ لیں گے تو چالیس برس تک اُن کے زہر کا درد نہیں جائے گا اور لگام لگائے ہوئے خچروں کے