Brailvi Books

جہنم کے خطرات
197 - 205
کاش! ایسا ہوجاتا خاک بن کے طیبہ کی

 			مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں سے میں لپٹ گیا ہوتا

پھول بن گیا ہوتا گُلشن مدینہ کا 

 			کاش ! ان کے صحرا کا خار بن گیا ہوتا

میں بجائے انساں کے کوئی پودا ۱؎ ہوتا یا

 			نَخْل بن کے طیبہ کے باغ میں کھڑا ہوتا

گلشن مدینہ کا کاش! ہوتا میں سبزہ

 			یا بطورِ تنکا ۲؎ ہی میں وہاں پڑا ہوتا

مَرغزار طیبہ کا کاش! ہوتا پروانہ 

 			گردِ شمع پھر پھر کر کاش! جل گیا ہوتا
 >>>بے تاب آرزو کا ذکر کتنے والہانہ انداز میں کر رہے ہیں ؎

سَگَت راکاش!جامی ؔ نام بودے 			کہ آید بر زَبانَت گاہے گاہے

یعنی یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کاش!آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے کسی کُتّے کا نام جامی ؔ ہوتا کہ اس بہانے کبھی کبھی میرا نام بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی زبانِ اقدس پر آجاتا۔

۱؎ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ (انکسارًا)فرماتے ہیں ، کاش! میں کسی مومن کے سینے کا بال ہوتا ۔ کاش!میں درخت ہوتا جو کھالیا جاتا ، یا کاٹ لیا جاتا ، کاش ! میں سبزہ ہوتا جسے جانور کھاجاتے ۔     (تاریخ الخلفاء)

۲؎ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک بار زمین سے ایک تنکا اٹھا کر فرمایا، کاش!میں بھی ایک تنکا ہوتا۔ کاش!میں کچھ بھی نہ ہوتا ، کاش میں پیدا ہی نہ ہوتا۔ (ایضاً)
Flag Counter