Brailvi Books

جہنم کے خطرات
198 - 205
کاش! خَر یا خَچّریا گھوڑا بن کر آتا اور

 			آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھُونٹے سے باندھ کر رکھا ہوتا

جاں کنی ۱؎ کی تکلیفیں ذِبح سے ہیں بڑھ کر کاش!

 			مرغ بن کے طیبہ میں ذِبح ہوگیا ہوتا

آہ!کثرت عصیاں ہائے! خوف دوزخ کا

 			کاش! اس جہاں کا میں نہ بشر بنا ہوتا

شور اُٹھا یہ محشر میں خُلد میں گیا عطارؔ

 			گرنہ وہ صلی اللہ علیہ وسلم بچاتے تو نار میں گیا ہوتا
۱ ؎ علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں ،''موت دنیا وآخرت کی ہولناکیوں میں سب سے زیادہ ہولناک ہے ۔ یہ آروں سے چیرنے ، قینچیوں سے کاٹنے اورہانڈیوں میں ابالنے سے بھی سخت تر ہے۔ اگر مردہ زندہ ہوکر شدائد موت لوگوں پر ظاہر کردے تو ان کی نیند اڑجائے اورسارا عیش وآرام تلخ ہوجائے ۔ ''    (شرح الصدور)

حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مرنے والے انسان کو فرشتے باندھ لیتے ہیں ورنہ تو وہ جنگلات میں بھاگتا پھرے۔    (ایضاً)

عاشقِ مدینہ (یہاں امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے ازراہ تواضع اپنے آپ کو سگ مدینہ فرمایاہے) کہتاہے بظاہر ذِبح ہونے والے جانور کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتاہے کہ وہ بے حد تکلیف میں ہے مگر آہ !انسان کی جانکنی کی تکلیفیں ذبح ہوکر تڑپنے والے جانور سے ہزارہا گنا زائد ہیں ۔ اے کاش!بوقت نزع جلوئہ محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نصیب ہوجائے تو پھر تمام تکلیفیں ہیچ ہیں ۔
Flag Counter