میں کام پڑنے والا ہے اس لئے جان و مال اور دنیاوی عزت سے بڑھ کر دین و ایمان کی حفاظت کا سامان کرنا بے حد ضروری ہے۔
(۲) نماز پنجگانہ کی پابندی نہایت ضروری ہے مردوں کو مسجد وجماعت کا التزام بھی واجب ہے بے نماز مسلمان گویا تصویر کا آدمی ہے کہ ظاہری صورت انسان کی ہے مگر انسان کا کام کچھ نہیں۔ یاد رکھو کہ بے نماز وہی نہیں ہے جو کبھی نہ پڑھے بلکہ جو ایک وقت کی بھی قصداً نماز چھوڑ دے وہ بے نماز ہے۔ کسی کی نوکری ملازمت خواہ تجارت وغیرہ کسی حاجت کے سبب ایک وقت کی بھی نماز قضا کر دینی سخت ناشکری اور پرلے سرے کی نادانی و گناہ کبیرہ ہے جو جہنم میں لے جانے والاہے۔ کوئی آقا یہاں تک کہ کافر کا بھی اگر کوئی نوکر ہو تو وہ اپنے ملازم کو نماز سے باز نہیں رکھ سکتا اور اگر کوئی آقا اپنے نوکر کو نماز سے منع کرے تو ایسی نوکری ہی قطعاً حرام ہے اور نماز چھوڑ کر کوئی بھی رزق کا ذریعہ روزی میں برکت نہیں لا سکتا۔ یاد رکھو کہ رزق اور روزی دینا اسی کا کام ہے جس نے نماز فرض کی ہے۔ لہٰذا اس رزاق مطلق پر توکل اور بھروسا کرتے ہوئے ہمیشہ رزق و روزی کا ذریعہ ایسی ہی نوکری اور ملازمت کو بنانا لازم ہے کہ جس میں خدا عزوجل کے فرائض کو چھوڑنا نہ پڑے، ورنہ سخت غضب الٰہی میں مبتلا ہو گا۔
(۳) جتنی نمازیں قضا ہو گئیں ہیں سب کا ایسا حساب لگائیں کہ تخمینے میں باقی نہ رہ جائیں اور ان سب کو بقدر طاقت رفتہ رفتہ جلد ادا کریں۔ اور اس میں ہر گز ہر گز کاہلی نہ کریں۔ کیونکہ موت کا وقت معلوم نہیں اورجب تک فرض ذمہ پر باقی ہوتا ہے کوئی نفل مقبول نہیں ہوتا جب چند نمازیں قضا ہوئی ہوں مثلاً سو بار کی فجر قضا ہے تو اس قضا کو پڑھتے وقت ہر بار یوں نیت کریں کہ سب میں پہلی وہ فجر جو مجھ سے قضا ہوئی اس کی