Brailvi Books

جہنم کے خطرات
189 - 205
نے فرمایا کہ جو شخص اپنا مال بڑھانے کیلئے بھیک مانگتا ہے وہ جہنم کا انگارا مانگ رہا ہے تو اس کو کم مانگے یا زیادہ یہ اس کو سمجھ لینا چاہیے۔
 (صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ باب کراہۃ المسألۃ للناس، الحدیث:۱۰۴۱،ص۵۱۸)
حدیث:۳

     حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے مال مانگا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھے مال عطا فرما دیا۔ پھر میں نے دوبارہ مانگا تو پھر بھی حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلمنے مجھے مال دے دیا۔ اور مجھ سے یہ فرمایا کہ اے حکیم!رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ مال سبز اور میٹھا ہے(یعنی بہت مرغوب و پسندیدہ چیز ہے) تو جو آدمی اس کو اپنے نفس کی سخاوت کے ساتھ لے گا، اس مال میں برکت ہو گی اور جو نفس کی لالچ کے ساتھ اس کو لے گا اس میں برکت نہ ہو گی اور اس کی مثال یہ ہو گی کہ کوئی کھاتا رہے اور آسودہ نہ ہو اور اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے۔ حضرت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ یہ سن کر میں نے کہہ دیا کہ یا رسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میں اس ذات کی قسم کھاتا ہوں جس نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو نبی بنا کر بھیجا ہے کہ میں آپکے بعد کسی سے زندگی بھر کچھ نہیں مانگوں گا۔
 (صحیح البخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب الاستعفاف عن المسألۃ، الحدیث:۱۴۷۲، ج۱،ص۴۹۷)
حدیث:۴

     حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جو سوال کرنے (بھیک مانگنے) سے بچے گا اللہ تعالیٰ اس کو بچالے گا اور جو
Flag Counter