بلا ضرورت محض اپنا مال بڑھانے کیلئے بھیک مانگنا حرام و گناہ ہے اور حدیثوں میں بکثرت اس کی ممانعت آئی ہے۔ چند حدیثیں یہاں تحریر کی جاتی ہیں۔چنانچہ
حدیث:۱
حضرت قبیصہ بن مُحارق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اے قبیصہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہ مال کا سوال کرنا اور بھیک مانگنا تین شخصوں کے علاوہ کسی کیلئے درست و حلال نہیں۔ ایک تو وہ شخص کہ اس نے کسی کی ضمانت لی ہواور اس کے پاس مال نہ ہو، تو اس کیلئے حلال ہے کہ وہ بھیک مانگ کر اپنی ضمانت کی رقم ادا کرے۔ دوسرے وہ کہ کسی آفت نے اس کے مال کوہلاک کر دیاتو اس کیلئے حلال ہے کہ وہ اپنے سامان زندگی کو درست کرنے کیلئے بقدر ضرورت بھیک مانگ سکتا ہے۔ تیسرے وہ شخص جو فاقہ میں مبتلا ہو گیا ہو یہاں تک کہ تین آدمی جو عقلمند ہوں اس کی قوم میں سے اٹھ کر یہ کہہ دیں کہ یقینا یہ شخص فاقہ کشی میں مبتلا ہو گیا ہے۔ تو وہ شخص زندگی کے گزارہ بھر بقدر حاجت بھیک مانگ سکتا ہے ان تین شخصوں کے علاوہ جو بھیک مانگے اور دوسروں سے مال کا سوال کرے تو اے قبیصہ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ مال حرام ہے جس کو وہ کھا رہا ہے۔