| جہنم کے خطرات |
ڈالے جائیں تا کہ وہ درخت کے مثل ہو جائیں اور پردے کے بارے میں یہ حکم دے دیجئے کہ اس کو پھاڑ کر دو مسندیں بنا لی جائیں جو زمین میں پڑی رہیں اور روندی جاتی رہیں۔ اور حکم دے دیجئے کہ کتا مکان سے نکال دیا جائے۔ یہ حضرت حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا کتا تھا جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلمکے تخت کے نیچے تھا۔ چنانچہ وہ کتا نکال دیا گیا۔
(الترغیب والترہیب،کتاب الأدب وغیرہ،باب الترہیب من اقتناء الکلب...الخ، الحدیث۹، ج۴، ص۳۵۔سنن الترمذی،کتاب الأدب،باب ماجاء أن الملائکۃ...الخ،الحدیث:۲۸۱۵،ج۴،ص۳۶۸)
مسائل و فوائد
کاشانہ اقدس میں حضرت حسن و حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے کتے اور تصویروں کا موجود رہنا اس وقت تھا جب کہ تصویروں اور کتوں کا مکان کے اندر رہنا حرام نہیں ہوا تھا۔ حضرت جبریل علیہ السلام کے اسی واقعہ کی وجہ سے تصویروں اور کتوں کا مکانوں میں رکھنا ناجائز قرار دے دیا گیا۔ اس ممانعت کے بعد اب کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ مکان یا کپڑوں پر کسی جاندار کی تصویر رکھے۔ اسی طرح شکار کیلئے اور کھیتی و مویشی و مکان کی حفاظت کیلئے تو کتا پالنا شریعت میں جائز ہے۔ باقی ان کے سوا دوسرے تمام کتوں کا پالنا ناجائز ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو ان خلاف شرع کاموں سے بچنا لازم ہے کیوں کہ شریعت ہی مسلمانوں کیلئے دونوں جہانوں میں صلاح و فلاح کا واحد ذریعہ ہے۔ مغربی تہذیب کے دلدادوں کی ہر گز ہر گز پیروی نہیں کرنی چاہیے جو کتوں کو اپنی اولاد کی طرح پالتے اور گود میں لئے پھرتے ہیں بلکہ جوش محبت میں کتوں کا منہ بھی چومتے رہتے ہیں۔ (لاحول ولا قوۃ الا باﷲ)