| جہنم کے خطرات |
مذکورہ بالا حدیثوں کو پڑھ کر ان لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہیئیں جو ہندوستان میں خواہ مخواہ اپنا خاندان و نسب بدل کر کسی اونچے خاندان سے اپنا رشتہ نسب ملا لیتے ہیں۔ سیکڑوں ایسے ہیں جن کو سیکڑوں برس سے لوگ یہی جانتے ہیں کہ وہ ہندوستانی ہیں اور ان کے آباؤ اجداد برسوں پہلے اسلام قبول کرکے مسلمان ہو گئے تھے مگر آج کل وہ عربی النسل بن کر اپنے کو صدیقی و فاروقی و عثمانی و سید کہنے لگے ہیں۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ لوگ ایسا کرکے کتنے بڑے گناہ کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ خداوند کریم ان لوگوں کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس حرام و جہنمی کام سے ان لوگوں کو توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
(۶۷) بیویوں کے درمیان عدل نہ کرنا
جس شخص کی دو یا دو سے زیادہ بیویاں ہوں،اس پر فرض ہے کہ سب بیویوں کو کھانا کپڑا اور خرچ اور بستر کا حق اور سب بیویوں کے پاس سونے میں بالکل برابری کرے ہر گز ہر گز کسی بیوی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے ورنہ وہ گناہ میں مبتلا ہو گا اورجہنم کی سزا کا حق دار ہو گا اس بارے میں یہ چند حدیثیں بہت عبرت خیز و نصیحت آمیز ہیں۔
حدیث:۱
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی کے پاس دو بیویاں ہوں اور وہ ان دونوں کے حقوق ادا کرنے میں برابر ی نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن وہ اس حالت میں آئے گا کہ اس کی