Brailvi Books

جہنم کے خطرات
17 - 205
اور پھر اُن کو آگ میں جلایا جائے گا یہ عذاب بار بار ہوتا رہے گا۔جہنم کی آگ کی گرمی کا یہ عالم ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ فرشتوں نے ایک ہزار برس تک جہنم کی آگ کو بھڑکایا تو وہ سرخ ہو گئی، پھر دوبا رہ ایک ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو وہ سفید ہو گئی، پھر تیسری بار جب ایک ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو وہ کالے رنگ کی ہو گئی تو وہ نہایت ہی خوفناک سیاہ رنگ کی ہے۔
(سنن الترمذی،کتاب صفۃ جہنم،باب منہ،الحدیث۲۶۰۰،ج۴،ص۲۶۶)
    ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جہنم کی آگ کی گرمی دُنیا کی آگ کی گرمی سے اُ نہتر درجے زیادہ ہے۔
(صحیح البخاری،کتاب بدء الخلق،باب صفۃالنار...الخ،الحدیث۳۲۶۵،ج۲،ص۳۹۶)
    ایک دوسری حدیث میں یہ بھی ہے کہ جہنم میں آگ کا ایک پہاڑ ہے جس کی بلندی ستر برس کا راستہ ہے،اس پہاڑ کا نام صعود ہے۔ دوزخیوں کو اس کے اُوپر چڑھایا جائے گا توستر برس میں وہ اُس کی بلندی پر پہنچیں گے پھراُن کو اُوپر سے گرایا جائے گا تو ستر برس میں نیچے پہنچیں گے۔ اِسی طرح ہمیشہ عذاب دیا جاتا رہے گا۔
(مشکوۃ المصابیح،کتاب صفۃ القیامۃ...الخ،باب صفۃالنار...الخ،الفصل الثانی، الحدیث:۵۶۷۷،ج۳،ص۲۳۶۔سنن الترمذی،کتاب صفۃ جہنم،باب فی صفۃ قعر جہنم،الحدیث۲۵۸۵،ج۴،ص۲۶۰)
    یہ بھی حدیث میں آیا ہے کہ دوزخی جہنم کی آگ میں جھلس کر ایسے مسخ ہو جائیں گے کہ اوپر کا ہونٹ سکڑ کر آدھے سر تک پہنچ جائے گا اوراسی طرح نچلا ہونٹ لٹک کر ناف تک پہنچ جائے گا۔
( سنن الترمذی،کتاب صفۃ جہنم،باب ما جاء فی صفۃ طعام اہل النار،الحدیث۲۵۹۶،ج۴،ص۲۶۴)
Flag Counter