| جہنم کے خطرات |
گناہوں کا سر چشمہ ہے۔ اسی لئے خداوند قدوس نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو حسد سے خدا کی پناہ مانگنے کا حکم فرمایاہے اور قرآن مجید میں نازل فرمایا :
وَ مِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ٪﴿۵﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے۔(پ30،الفلق:5)
اور حدیثوں میں بھی اس کی ہلاکت خیز مضرت کا بڑے ہی عبرت انگیز الفاظ میں بیان آیا ہے۔
حدیث:۱
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ایک دوسرے سے حسد مت کرو اور ایک دوسرے سے بغض نہ رکھواور ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور اے اللہ کے بندو!تم آپس میں ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن کر رہو۔(صحیح البخاری،کتاب الادب،باب یایھا الذین اٰمنوآ اجتنبوا...الخ، الحدیث۶۰۶۶،ج۴،ص۱۱۷۔صحیح مسلم،کتاب البروالصلۃ،باب تحریم الظن...الخ، الحدیث:۲۵۶۳،ص۱۳۸۶ )
حدیث:۲
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا ڈالتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا ڈالتی ہے اور صدقہ گناہوں کو اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور نماز مومن کا نور ہے اور روزہ جہنم سے ڈھال ہے۔(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،من قسم الاقوال،الحسد، الحدیث: ۷۴۳۵،الجزأالثالث،ص۱۸۵)