Brailvi Books

جہنم کے خطرات
163 - 205
 اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخْتَالًا فَخُوۡرَۨا ﴿ۙ۳۶﴾الَّذِیۡنَ یَبْخَلُوۡنَ وَیَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَیَکْتُمُوۡنَ مَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ؕ وَاَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿ۚ۳۷﴾
ترجمہ کنزالایمان: بے شک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والا بڑائی مارنے والا جو آپ بخل کریں اوراوروں سے بخل کے لیے کہیں اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائیں اور کافروں کیلئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔(پ5،النساء:36۔37)

اسی طرح حدیثوں میں بھی کثرت سے بخیلی کی مذمت اور اس پر وعیدیں آئی ہیں چنانچہ

حدیث:۱

     امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ دھوکا دینے والا اوربخیل اور احسان جتانے والا (شروع سے) جنت میں نہیں داخل ہو گا بلکہ کچھ دن جہنم کا عذاب چکھ لینے کے بعد جنت میں جائے گا۔
(سنن الترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی البخل، الحدیث:۱۹۷۰،ج۳، ص۳۸۸۔المسندلامام احمد بن حنبل،مسند ابی بکرالصدیق،الحدیث۳۲، ج۱،ص۲۶)
حدیث:۲

    حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ دو خصلتیں مومن میں جمع نہیں ہوں گی ؛بخیلی اور بد اخلاقی۔
(سنن الترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی البخل، الحدیث:۱۹۶۹، ج۳،ص۳۸۷)
مطلب یہ ہے کہ جو مومن ہو گا اگر بخیل ہو گا تو بد اخلاق نہیں ہو گا اور اگر بد اخلاق
Flag Counter