| جہنم کے خطرات |
تکبر کرتا رہتا ہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (فرشتوں کو) حکم دیتا ہے کہ میرے اس بندے کو ''جبارین'' (ظالموں) میں لکھ دو۔
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،من قسم الاقوال،حرف الکاف،الکبروالخیلاء، الحدیث:۷۷۲۶،الجزء الثالث،ص۲۱۰)
مسائل و فوائد
اچھا لباس، اچھا مکان و سامان رکھنا یہ تکبر نہیں بلکہ تکبر یہ ہے کہ حق سے سرکشی کرے اپنے کو بڑا اور عزت والا سمجھے۔ اور دوسرے کو اپنے سے کمتراور ذلیل سمجھے در حقیقت یہ وہ تکبر ہے جو دنیا و آخرت میں آدمی کو ذلت کے غار میں گرانے والا، اور جہنم میں پہنچانے والا گناہ ہے۔ (واللہ تعالیٰ اعلم)
(۵۸) بخیلی
بخیلی بہت ذلیل خصلت اور بدترین گناہ ہے قرآن و حدیث میں بخیلوں کیلئے جہنم کی وعید آئی ہے، چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبْخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمْ ؕ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ
ترجمہ کنزالایمان: اورجو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگزاسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں۔ بلکہ وہ ان کیلئے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخ کیا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا۔(پ4،اٰل عمران:180) دوسری آیت میں یوں ارشاد ہوا کہ