| جہنم کے خطرات |
یعنی تکبر نے عزازیل کو ذلیل و خوار کر دیا اور لعنت کے قید خانے میں گرفتار کر دیا۔
''عزازیل'' فرشتوں کا معلم اور بہت بڑا عابد و زاہد تھا مگر اس نے تکبر سے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنے سے کمتر بتایا اور سجدہ نہیں کیا تو وہ مردودِ بارگاہِ الٰہی ہو کر بہشت سے نکالا گیا اور تمام مخلوق کی لعنت و ملامت میں گرفتار ہو گیا۔ قرآن مجید نے بار بار اعلان فرمایا کہفَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۷۲﴾
ترجمہ کنزالایمان:تو کیا ہی برا ٹھکانہ متکبروں کا۔(پ24،الزمر:72)
اسی طرح تکبر کی چال کو حرام فرماتے ہوئے خداوند قدوس نے ارشاد فرمایا :وَ لَا تَمْشِ فِی الۡاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّکَ لَنۡ تَخْرِقَ الۡاَرْضَ وَلَنۡ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوۡلًا ﴿۳۷﴾کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہٗ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوۡہًا ﴿۳۸﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہرگز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بری بات تیرے رب کو ناپسند ہے۔(پ15،بنی اسرائیل:37،38)
حدیثوں میں بھی بکثرت تکبر کی قباحت و مذمت بیان کی گئی ہے چنانچہ۔
حدیث:۱
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا اور جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں