Brailvi Books

جہنم کے خطرات
154 - 205
وَالَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا یُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ ؕ وَمَنۡ یَّکُنِ الشَّیۡطٰنُ لَہٗ قَرِیۡنًا فَسَآءَ قَرِیۡنًا ﴿۳۸﴾
ترجمہ کنزالایمان:اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے اللہ اور نہ قیامت پر اور جس کا مصاحب شیطان ہوا تو کتنا برا مصاحب ہے۔(پ5،النساء:38)

     دوسری آیت میں یوں ارشاد فرمایا کہ
فَوَیۡلٌ لِّلْمُصَلِّیۡنَ ۙ﴿۴﴾الَّذِیۡنَ ہُمْ عَنۡ صَلَاتِہِمْ سَاہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾الَّذِیۡنَ ہُمْ یُرَآءُوۡنَ ۙ﴿۶﴾وَ یَمْنَعُوۡنَ الْمَاعُوۡنَ ٪﴿۷﴾
ترجمہ کنزالایمان: تو ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نمازسے بھولے بیٹھے ہیں وہ جو دکھاواکرتے ہیں اور برتنے کی چیز مانگے نہیں دیتے۔(پ30،الماعون:4۔7)

اسی طرح ریا کاری کی مذمت اور ممانعت میں بہت سی حدیثیں بھی وارد ہوئی ہیں۔

حدیث:۱

     حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں تمام شریکوں سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہوں۔ جو شخص کوئی ایسا عمل کرے کہ اس عمل میں میرے ساتھ میرے غیر کو شریک کرے تو میں اس کو اس کے شرک کے ساتھ چھوڑ دوں گا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ میں اس سے بیزار ہوں وہ عمل اسی کیلئے ہے جس کیلئے اس نے کیا ہے۔
(مشکوٰۃ المصابیح،کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعۃ، الفصل الاول، الحدیث: ۵۳۱۵،ج۳،ص۱۳۷۔سنن ابن ماجہ،کتاب الزھد،باب الریاء والسمعۃ، الحدیث ۴۲۰۲،ج۴،س۴۶۹)
Flag Counter