Brailvi Books

جہنم کے خطرات
133 - 205
 (۴۷) کہنا کچھ اور، کرنا کچھ اور
    دوسروں کو اچھی اچھی باتوں کا حکم دینا اور خود اس پر عمل نہ کرنا یہ بھی گناہ کا کام ہے۔ چنانچہ قرآن مجید کی آیتوں اور حدیثوں میں اس کی مذمت اور ممانعت بکثرت مذکور ہے۔ خدا وندکریم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفْعَلُوۡنَ ﴿۲﴾کَبُرَ مَقْتًا عِنۡدَ اللہِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفْعَلُوۡنَ ﴿۳﴾
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ جونہیں کرتے کتنی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو۔(پ28،الصف:2۔3)

دوسری آیت میں جھوٹے شاعروں کی مذمت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ
وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ ﴿۲۲۴﴾ؕاَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ ﴿۲۲۵﴾ۙوَ اَنَّہُمْ یَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا یَفْعَلُوۡنَ ﴿۲۲۶﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتے ہیں کیا تم نے نہ دیکھا کہ وہ ہرنالے میں سرگرداں پھرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے۔(پ19،الشعراء:224۔226)

    اس بارے میں مندرجہ ذیل حدیثوں کو بھی پڑھئے جن سے ہدایت کے چشمے ابل رہے ہیں۔

حدیث:۱

     حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ شب معراج میں نے چند آدمیوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے ہیں۔ تو میں نے کہا کہ اے جبرائیل!علیہ السلام یہ کون لوگ
Flag Counter