Brailvi Books

جہنم کے خطرات
131 - 205
میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس حاضر تھا تو اچانک ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے ابن عباس!رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ میری روزی کا ذریعہ میرے ہاتھ کی کاریگری ہے اور وہ یہ ہے کہ میں تصویریں بنایا کرتا ہوں۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ میں تم سے وہی حدیث بیان کرتا ہوں جس کو خود میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص کوئی تصویر بنائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس وقت تک عذاب دیتا رہے گا جب تک کہ وہ اس تصویر میں روح نہ پھونک دے اور وہ اس میں کبھی بھی روح نہیں پھونک سکے گا۔ یہ حدیث سن کر وہ آدمی سخت لرزہ سے کانپنے لگا اور اسکا چہرہ پیلا پڑ گیا۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے فرمایا کہ تم پر افسوس ہے اگر تم تصویر بنانا نہیں چھوڑ سکتے تو ان درختوں اور ایسی چیزوں کی تصویر بناؤ جن میں روح نہیں ہے۔
 (صحیح البخاری،کتاب البیوع،باب بیع التصاویر...الخ، الحدیث:۲۲۲۵،ج۲،ص۵۱)
حدیث:۷

     حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو بے دیکھے ہوئے کوئی خواب گھڑ کر بیان کریگا تو قیامت کے دن اس کو یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ دو جَو کے درمیان گانٹھ لگائے او ر وہ ہر گز اس کو نہ کر سکے گا اور جو کسی ایسی قوم کی بات کو کان لگا کرسنے گا جو قوم اس کو اپنی بات سنانا ناپسند کرتی ہے تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں پگھلایا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا اور جو کوئی تصویر بنائے گا تو اس کو عذاب دیا جائے گا۔ اور اس سے کہا جائے گا کہ اس تصویر میں روح پھونکو اور وہ اس میں کبھی بھی
Flag Counter