Brailvi Books

جہنم کے خطرات
125 - 205
حدیث:۲

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ ''جنگ حنین'' میں حاضر تھے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ایک ایسے شخص کو جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا تھا یہ کہہ دیا کہ یہ شخص جہنمی ہے پھر جب ہم لوگ لڑائی میں حاضر ہوئے تو اس شخص نے کفار کے ساتھ بہت سخت جنگ کی اور اس کو بہت زیادہ زخم لگ گئے تو کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم وہ آدمی جس کو حضورنے جہنمی فرما دیا ہے، اس نے تو آج کفار سے بہت سخت جنگ کی ہے اور وہ مر گیا ہے۔ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ وہ جہنم میں گیا یہ سن کر بہت سے لوگ شک میں پڑ گئے تو اسی حالت میں اچانک کسی نے کہا کہ وہ مرا نہیں تھا لیکن اس کو بہت سخت زخم لگا تھا تو رات میں وہ صبر نہ کر سکا اور خود کشی کر لی جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اللہ اکبر!میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول اور اس کا بندہ ہوں پھر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دیں کہ جنت میں مسلمان کے سوا کوئی داخل نہ ہوگا اور بیشک اللہ تعالیٰ اس دین کی مدد کسی بدکار آدمی کے ذریعے بھی فرما دیا کرتا ہے۔
    (صحیح مسلم، کتاب الایمان،باب بیان غلظ تحریم ...الخ، الحدیث:۱۷۸، ص۷۰)
مسائل و فوائد
خود کشی کرنے والا مسلمان اگرچہ خود کشی کرنے سے کافر نہیں ہوتا لیکن سخت گنہگار اور جہنم کا سزاوار ہو جاتا ہے وہ دنیا میں جس ہتھیارسے خود کشی کریگا جہنم میں اسی ہتھیار کے
Flag Counter