Brailvi Books

جہنم کے خطرات
120 - 205
پیشاب سے بچائے اور جو اپنے بدن اور کپڑوں کو پیشاب سے نہ بچائے وہ گنہگار اور عذاب کے لائق ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ 

حدیث:

     حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں مُردوں کو عذاب دیا جا رہا ہے۔ اور کسی ایسے گناہ میں ان دونوں کو عذاب نہیں دیا جا رہا ہے جس سے بچنا بہت دشوار رہا ہو۔ ایک تو چھپ کر پیشاب نہیں کرتا تھا اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا تھا ۔پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کھجور کی ایک ہری شاخ لی اور اس کو چیر کر دو ٹکڑے کرکے ایک ایک ٹکڑا دونوں قبروں میں گاڑ دیا تو لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم آپ نے ایسا کیوں کیا ؟تو آپ نے فرمایا کہ اس لئے کہ جب تک یہ دونوں ٹہنیاں ہری رہیں گی امید ہے کہ ان دونوں کے عذاب میں تخفیف ہو جائے گی۔
(صحیح البخاری،کتاب الوضوء،باب ۵۹،الحدیث: ۲۱۸، ج۱،ص۹۶۔صحیح مسلم،کتاب الطھارۃ،باب الدلیل علی نجاسۃ البول...الخ،الحدیث۲۹۲،ص۱۶۷)
مسائل وفوائد
(۱) اس حدیث سے ان مسلمانوں کو عبرت حاصل کرنا چاہیے جو عموماً کھڑے کھڑے پیشاب کرتے ہیں اور بوٹ، سوٹ اور خود اپنے آپ پیشاب سے لت پت ہو جاتے ہیں۔اور پیشاب کے بعد نہ ڈھیلا لیتے ہیں نہ پانی سے دھوتے ہیں اور
Flag Counter