رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہی خیال ہوا اس لئے آپ نے اس کو درہ مار کر سزا دی۔ لیکن امیرالمومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے جب اس نے اپنی صفائی پیش کر دی تو امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اخلاص دیکھو کہ آپ نے ایک معمولی انسان کے سامنے اپنے آپ کو قصاص لینے کیلئے پیش کر دیا۔ وہ تو خیریت ہو گئی کہ اس نے آپ کو معاف کر دیا ورنہ امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو اس کے ہاتھ سے درہ کی مار کھانے کیلئے تیار ہو گئے۔
اللہ اکبر!یہ ہے جانشین پیغمبر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عدل و انصاف کا وہ اعلیٰ شاہکار کہ آج اس جمہوریت کے دور میں بھی کوئی اس کو سوچ بھی نہیں سکتا۔ سبحان اللہ! سبحان اللہ !صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اخلاص و للہیت کی مثال نہیں مل سکتی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔